ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ملکی خبریں / کانگریس کو برطانوی حکومت میں ہوئی مشکلات سے زیادہ بی جے پی کو آزاد ہندوستان میں مشکلات کاکرنا پڑا سامنا :پی ایم مودی کا دعوی

کانگریس کو برطانوی حکومت میں ہوئی مشکلات سے زیادہ بی جے پی کو آزاد ہندوستان میں مشکلات کاکرنا پڑا سامنا :پی ایم مودی کا دعوی

Thu, 18 Aug 2016 18:30:46    S.O. News Service

مودینےترنمول کانگریس پربھی کیا حملہ،اپنے امیدواروں کی ضمانت ضبط ہونےپرکیافخرکااظہارملک کی فکرسےزیادہ اپنی پارٹی کی گرتی ساکھ کےغم میںڈوبےنظر آئےوزیراعظم

نئی دہلی، 18؍اگست(ایس او نیوز/آئی این ایس انڈیا)وزیر اعظم نریندر مودی نے آج دعوی کیا کہ برطانوی دور حکومت کے دوران کانگریس نے جتنی پریشانیاں جھیلی ہوں گی، بی جے پی کو آزاد ہندوستان میں اس سے کہیں زیادہ دشواریوں کا سامنا کرنا پڑا۔انہوں نے ساتھ ہی اس بات پر افسوس کااظہار کیا کہ ان کی پارٹی کی ہر کوشش کو غلط طریقہ سے دیکھا جا رہا ہے۔وزیر اعظم نے یہاں بی جے پی کے نئے ہیڈ کوارٹر کا سنگ بنیاد رکھنے کے دوران کہا کہ بی جے پی نے کسی بھی دوسری پارٹی سے زیادہ قربانی دی ہے۔ملک کی طاقت بڑھنے کے ساتھ ہی علیحدگی پسند طاقتیں زیادہ فعال ہو گئی ہیں اور اب اس بات کو یقینی بنانا زیادہ ضروری ہو گیا ہے کہ سماج کو مضبوط کیا جائے اور مزید ہم آہنگی بڑھے۔’سب کا ساتھ، سب کا وکاس ‘کے مقصد کے ساتھ سب کو ساتھ لے کر چلنے کے اپنی پارٹی کے عزم کااظہار کرتے ہوئے انہوں نے پارٹی کارکنوں سے ملک اور عالمی جمہوریت کے سامنے یہ مثال پیش کرنے کو کہا کہ کس طرح اصولوں کے لیے وقف اور نسل پرستی سے پاک ایک پارٹی کام کرتی ہے کیونکہ دنیا بھگوا تنظیم کو اس طریقے سے نہیں جانتی ہے جس طریقے سے جاننا چاہیے بلکہ اس کو جاننا سنی سنائی باتوں پر مبنی ہے۔انہوں نے کہاکہ بی جے پی واحد ایسی پارٹی ہو گی جس نے اپنے قیام کے وقت سے ہی دشواریاں جھیلی ہیں۔اس نے ہر موڑ پر مشکلات کا سامنا کیا اور اس کی ہر کوشش کو غلط طریقے سے دیکھا گیا۔
      پارٹی سربراہ امت شاہ، سینئر لیڈر لال کرشن اڈوانی، راج ناتھ سنگھ، ارون جیٹلی اور دیگر لیڈروں کی موجودگی میں مودی نے کہاکہ برطانوی دور حکومت میں بھی کانگریس نے اتنی مشکلات کا سامنا نہیں کیا ہوگا جتنی مشکلات کا سامنا ہمارے کارکنوں نے 50-60سال میں کیا ہے۔انہوں نے ترنمول کانگریس پر بالواسطہ حملہ بولتے ہوئے کہا کہ حالیہ مغربی بنگال اسمبلی انتخابات کے دوران ایک بی جے پی امیدوار کے لیے کولکا تہ میں دفتر تک کرایہ پر لینا مشکل تھا کیونکہ انہیں جگہ دینے کے خواہش مند شخص کو مشکلات جھیلنی پڑتیں۔
         وزیر اعظم مودی نے کہاکہ آزادی کے بعد کسی پارٹی نے بی جے پی سے زیادہ قربانیاں نہیں دی ہوں گی ۔انہوں نے ساتھ ہی کہا کہ ان کے سینکڑوں کارکنان مارے گئے کیونکہ وہ اس وقت رائج نظریات سے وابستہ نہیں ہوئے تھے۔انہوں نے کہا کہ بی جے پی کارکنان بھیڑ کے لیے کام نہیں کرتے ہیں بلکہ وہ تنظیم کے لیے کام کرتے ہیں کیونکہ کوئی بھی مقبول مسائل کے بارے میں بات کر کے بھیڑ جمع کر سکتا ہے لیکن اہم بات ہے نظریات سے جڑے رہنا۔ انہوں نے کہا کہ کسی اور سیاسی پارٹی کے امیدواروں کی ضمانت اتنی زیادہ ضبط نہیں ہوئی ہوگی جتنی بی جے پی کے امیدواروں کی ضبط ہوئی کیونکہ وہ نتائج کی پرواہ کئے بغیر اپنے نظریات کیلئے لڑتے رہے۔مودی نے اس موقع پر ریو اولمپکس میں کانسہ کا تمغہ جیت کر ملک کا سر فخر سے اونچا کرنے والی پہلوان ساکشی ملک کو بھی مبارک باد دی۔وزیر اعظم نے کہا کہ جب بی جے پی کی سابقہ تنظیم جن سنگھ 1969میں مدھیہ پردیش میں اقتدار میں آئی تو عالمی تحقیقاتی تنظیموں نے جن سنگھ پر مطالعہ شروع کر دیا۔انہوں نے کہاکہ اور جب واجپئی جی کی حکومت بنی تو دنیا ایک بار پھر حیران رہ گئی کہ ہم نے کتنی ترقی کر لی ہے۔انہوں نے لوگوں سے ہمارے بارے میں جاننے کی کوشش کی اور اس وجہ سے وہ کبھی ہمیں صحیح طریقہ سے نہیں جان پائے۔دنیا کا تجسس اب پھر سے ابھرا ہے۔پارٹی لیڈروں سے وابستہ اہم واقعات کے بارے میں فوٹو گراف جیسے رکارڈشدہ مواد کی غیر موجودگی کے بارے میں انہوں نے کہا کہ اب وقت آ گیا ہے کہ تنظیم کی سرگرمیوں سے منسلک ہر بات کو ریکارڈ کیا جائے۔


Share: